ابنا: امريکي صدر باراک اوباما نے سي اين اين سے اپني گفتگو ميں عراق ميں اتحاد کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے وزيراعظم نوري مالکي پراشاروں کنايوں ميں الزام لگايا کہ وہ عراق ميں سياسي مذہبي اور قومي گروہوں کے حقوق کو نظر انداز کررہے ہيں-
امريکي صدر باراک اوباما نے اپنے مداخلت پسندانہ بيان ميں کہا کہ عراقي حکومت نے جمہوريت کے لئے ہاتھ آنےوالے مواقع سے بقول ان کے اچھي طرح استفادہ نہيں کيا -
انہوں نے کہاکہ عراقي حکومت کو چاہئے کہ وہ ملک کے وفاق کے تحفظ کے لئے سبھي سياسي گروہوں سے استفادہ کرے تاکہ ملک کا نظم ونسق چلايا جاسکے -
اس درميان ايک امريکي جنرل نے دہشت گرد تکفيري گروہ داعش کو عالمي امن کے لئے خطرہ قرار ديا ہے -
عراق ميں امريکا کے سابق فوجي کمانڈر جنرل ڈيوڈ پٹريئس نے برطانوي اخبار ڈيلي ٹيلي گراف سے اپنے انٹرويو ميں کہاکہ وہ داعش اور بعثي گروہ کے خلاف حملوں کي حمايت کرتے ہيں - انہوں نے کہا کہ يہ دہشت گرد گروہ نہ صرف عراق بلکہ علاقے سے باہر کے ملکوں کے لئے بھي خطرہ ہے - امريکي جنرل ڈيوڈ پٹر يئس نے کہا کہ اس گروہ کے بڑھتے ہوئے خطرے کا مطلب يہ ہے کہ اس کے خلاف فوجي کاروائي کي ضرورت ہوگي - انہوں نے کہا کہ ايسا لگتا ہےکہ داعش ايک دہشت گرد گروہ سے بھي بڑھ کر ہے اور اب يہ گروہ ايک دہشت گرد فوج ميں تبديل ہورہا ہے -
امريکي جنرل نے کہا کہ داعش گروہ کي فوج ايک ايسي دہشت گرد فوج ہے جس کي بڑے پيمانے پر مالي حمايت کي جارہي ہے-
انہوں نے کہا کہ اس گروہ کو بينکوں اور ديگرمالياتي اداروں کو لوٹ کر مدد پہنچائي جاتي ہے -
امريکا کے اس جنرل کا يہ بيان ايک ايسے وقت سامنے آياہے جب داعش کے دہشت گردوں کو فوجي ٹريننگ امريکي فوجيوں نے دوہزار بارہ ميں اردن کے ايک کيمپ ميں دي تھي -
.......
/169